ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل :بینگرے ،ملاری پتھر کان کنی معاوضہ تقسیم کاری میں بی جے پی کا غلط اقدام : دیہی عوام کا الزام

بھٹکل :بینگرے ،ملاری پتھر کان کنی معاوضہ تقسیم کاری میں بی جے پی کا غلط اقدام : دیہی عوام کا الزام

Tue, 01 Aug 2017 20:53:25    S.O. News Service

بھٹکل:یکم اگست (ایس اؤنیوز)تعلقہ کے بینگرے ملاری مقام پر پتھر کان کنی سے نقصان کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کئے گئےمعاوضہ کو لے کر بی جے پی عوام میں غلط فہمی پیدا کئے جانے کا مقامی دیہات کے عوام نے الزام لگایا ہے ۔

مقامی دیہات کے عوام نے پریس کانفرنس کے ذریعے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ بینگرے میں عوامی جذبات ، ان کی زندگی پر کیا اثرات ہونگے اس تعلق سے سوچے بغیر کان کنی کی تعمیر کے لئے پنچایت صدر اور کچھ ممبران ہی ذمہ دار ہیں، ا س معاملے میں رشوت کی بو آرہی ہے ، معاوضہ کی تقسیم کاری میں عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہورہی تھی ، لیکن رکن اسمبلی کی عین وقت مداخلت اور ان کی کوششوں سے اس پر روک لگی ہے۔

عوام کا کہنا تھا کہ اصل نقصان معاوضہ فہرست کو ٹھکانے لگا کر اپنی طرف سے معاوضہ فہرست کی تیاری میں بڑی من مانی اور فہرست میں خود اپنا نام بھی شامل کرنے کی کوشش کرنے کے دوران بی جے پی پارٹی کے ایک ذمہ دار کانام سامنے آیا ، ان حالات میں عوام کا ذہن کسی دوسری طرف لے جانے کے لئے بی جے پی نے معاوضہ تقسیم میں تفریق معاملہ کو پیش کیا ہے، جس کی ہم کڑی مذمت کرتے ہیں ، رکن اسمبلی کی کو ششوں سے ہی آئی آر بی کمپنی نے نقصان سے متاثرہ خاندانوں میں معاوضہ تقسیم کیا ہے ، ابھی کچھ لوگوں میں تقسیم ہونا باقی ہے ، ہمیں یقین ہے کہ رکن اسمبلی بقیہ لوگوں کو بھی معاوضہ دلائیں گے، اس میں کسی پارٹی وغیرہ کی تفریق کو ہم نہیں مانتے۔

 عوام نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی ملاری دیہات سے باہر والوں کو لے کر ہنگامہ کرنے سے باز آئے۔ کان کنی سے جب گھروں کو نقصان پہنچا تھاتو بینگرے پنچایت کے صدر کہاں تھے، اس وقت جلدبازی میں فی خاندان 20ہزارروپئے معاوضہ تقسیم کرکے فرار ہونے کی کوشش کرنےو الوں نے ہی تفریق کی بات کرنا کیا وجہ ہے؟ علاقے میں موجود پتھر کان کنی سے گھروں، زرعی زمینات، رہائشی زمین وغیرہ بربا دہوئی ہے، پانی کے ذخیرے سوکھ گئے ہیں، کان کنی میں ہونے والے دھماکوں سے گھروں کی دیواروں کو نقصان پہنچ رہاہے، جب ہم نے اس سلسلے میں پنچایت سے مدد مانگی تو کوئی توجہ نہیں دی گئی ، پنچایت انتظامیہ ، ڈپٹی کمشنر ، محکمہ اراضی وکان کنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دن گزاری کی، اگر واقعی میں پنچایت کو عوامی زندگی کا خیال ہے تو کان کنی کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ چندرو وینکٹیا نائک، رمیش نائک، پنڈلک تمپانائک، لکشمی دیوی داس نائک، درگمانائک، اندرا نائک، لوکیش نائک وغیرہ موجود تھے۔


Share: